مسجدِ اقصیٰ میں یہودی عبادت کی باضابطہ اجازت
غزہ: (ویب ڈیسک) عرب میڈیا کے مطابق اس۔را۔ئی۔ل۔ی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کو مذہبی عبادت کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ جسے کئی دہائیوں سے قائم موجودہ انتظامی حیثیت کی واضح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یروشلم اسلامی وقف کے مطابق ا۔س۔ر۔ائی۔لی پولیس نے اتوار کے روز مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونے والے آبادکاروں کو سِدوریم یعنی یہودی دعاؤں کی کتابیں اندر لے جانے اور اجتماعی عبادت کرنے کی اجازت دی۔ وقف کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کی سرگرمیاں سرکاری اجازت کے بغیر ہوتی رہی ہیں، تاہم باضابطہ اجازت کا فیصلہ ایک اہم اور تشویش ناک تبدیلی ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کے موجودہ انتظام کے تحت اس کے پورے 14.4 ہیکٹر احاطے کو اسلام کا مقدس مقام تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ رسائی، عبادت کے انتظامات اور دیکھ بھال کی ذمہ داری یروشلم اسلامی وقف کے پاس ہے۔ 1967ء میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد ا۔س۔ر۔ائی۔ل پر اس انتظامی حیثیت کو کمزور کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جبکہ یہودیوں کو باضابطہ عبادت کی اجازت دینا اسی سلسلے میں ایک نیا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ وقف کے مطابق کسی مقام پر بطور زائر داخل ہونا اور وہاں باقاعدہ مذہبی عبادت کرنا بنیادی طور پر مختلف معاملات ہیں، کیونکہ عبادت کی اجازت مستقبل میں وہاں الگ قواعد کے قیام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
کئی برسوں سے اس۔ر۔ائ۔یل۔ی فورسز مسجدِ اقصیٰ میں روزانہ کے دھاووں کے دوران ۔اس۔ر۔ائ۔یلی شہریوں کی مذہبی رسومات سے چشم پوشی کرتی رہی ہیں، تاہم اب مبینہ طور پر انہیں باقاعدہ اجازت ملنے سے صورتحال کی نوعیت بدل گئی ہے۔ فلسطینی اور اسلامی حلقے اس اقدام کو مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کیلئے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر مقدس مقام کے انتظام، مذہبی آزادی اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی حیثیت سے متعلق تنازع کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔