امریکا کی طرف سے آئی سی سی کے صدر اور سینئر وکیل پر پابندیاں عائد
نیویارک: (ویب ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ عدالت نے نیتن یاہو، سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق تحقیقات کر کے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ اسی بنیاد پر گزشتہ سال بھی کئی ججوں اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں لگ چکی ہیں۔ نئی پابندیوں سے متاثرہ افراد کے امریکی اثاثے منجمد اور مالیاتی نظام سے علیحدگی ہو سکتی ہے۔
آئی سی نے کہا ہے کہ عدالتی حکام کو دھمکانے سے بین الاقوامی قانون کمزور ہوگا۔ صدر توموکو اکانے پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ ایسی پابندیاں عدالت کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے امریکا کے فیصلے سے اختلاف کیا اور صدر اکانے کو حمایت کا یقین دلایا۔ جون میں آئی سی سی کے 3 ججوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
یہ پابندیاں دی ہیگ میں قائم عدالت کے خلاف امریکی مہم کا نیا مرحلہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے غزہ سمیت دیگر جنگی جرائم کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب یورپی ممالک عدالت کی آزادی کے حق میں کھڑے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا سفارتی دباؤ سے معاملہ حل ہوگا یا قانونی جنگ مزید طول پکڑے گی۔