جنوب میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کی موجودگی ناگزیر ہے: لبنانی صدر
بیروت: (ویب ڈیسک) صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اگر مینڈیٹ میں توسیع ممکن نہ ہو تو دوسرا راستہ یہ ہے کہ قانونی دائرے میں بین الاقوامی افواج جنوب میں موجود رہیں اور لبنانی فوج کے ساتھ مل کر کام کریں۔ مقصد جنوب میں بین الاقوامی موجودگی برقرار رکھنا اور لبنانی ریاست و فوج کا کردار مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل تقریباً ایک سال سے یو این آئی ایف آئی ایل کی موجودگی کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ لبنان اس کے تسلسل کا خواہاں ہے۔
50 ممالک کی فورس یو این آئی ایف آئی ایل میں تقریباً 7,500 اہلکار شامل ہیں۔ یہ فورس 1978ء سے جنوبی لبنان میں تعینات ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ سال اگست میں امریکی دباؤ پر فیصلہ کیا تھا کہ یو این آئی ایف آئی ایل کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم کر دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد بھی لبنان میں امن دستوں کی ضرورت رہے گی۔ جون میں انہوں نے جنگ بندی کی نگرانی اور لبنانی فوج کی معاونت کے لیے 2,000 سے 5,500 اہلکار رکھنے کی 3 تجاویز پیش کیں۔ فرانس اور اٹلی نے بھی یونیفِل کے بعد متبادل اتحاد بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
صدر جوزف عون نے ٹاسک فورس فار لبنان کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ طے شدہ فریم ورک معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا پابند ہے اور امریکا اس میں معاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی کے بعد سرکاری ادارے بنیادی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل صرف فوجی طاقت سے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا، سلامتی کے لیے سیاسی حل ضروری ہے۔ آخر میں انہوں نے بتایا کہ حکومت بد عنوانی کے خلاف قوانین، ای گورننس اور عدالتی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔