اے آئی کی وجہ سے گرافک ڈیزائنرز سمیت ماہرین کی نوکریاں خطرے میں
کیلیفورنیا: (ٹیکنالوجی ڈیسک) مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی لوگوں کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ خاص طور پر گرافک ڈیزائنرز، کانٹینٹ رائٹرز، کسٹمر سروس اور میڈیا سے جڑے لوگ پریشان ہیں۔ کمپنیاں اب مہنگے انسانوں کی بجائے سستے اور جلدی کام کرنے والے اے آئی ٹولز استعمال کر رہی ہیں۔
برطانیہ کے گرافک ڈیزائنر ڈینی ولیمز کا کہنا ہے کہ پہلے گرافک ڈیزائنرز کی بہت مانگ تھی، لیکن اب کام بہت کم مل رہا ہے۔ چھوٹے کاروباری لوگ بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے اے آئی سے سستے پوسٹر اور ڈیزائن بنوا لیتے ہیں۔ ایسٹ یارکشائر کی ایک پب مالکن کلیئر ہاولیٹ کہتی ہیں کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس خود اے آئی کی مدد سے بنا لیتی ہیں۔ ان کے لیے یہ سستا، آسان اور کافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کاروبار بڑا ہوا تو وہ پھر کسی ڈیزائنر کو رکھ لیں گی۔
اشتہارات کی صنعت کے ماہر اسٹیفن ووڈفورڈ کا کہنا ہے کہ اے آئی بہت اچھی ٹیکنالوجی ہے لیکن یہ ہر کام انسان کی طرح نہیں کر سکتی۔ اسٹیفن ووڈفورڈ نے مزید کہا کہ اشتہارات میں ایمانداری اور قانون کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے جو صرف انسان ہی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایسٹ یارکشائر سے تعلق رکھنے والے گرافک ڈیزائنر ڈینی ولیمز کا بھی کہنا ہے کہ اے آئی سے بنے ڈیزائن سب ایک جیسے لگتے ہیں اور ان میں وہ جدت نہیں ہوتی جو ایک انسان دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق سستا ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا اور لوگ جلد ہی اے آئی والے بورنگ ڈیزائن سے اکتا جائیں گے۔