فرانس میں طلبہ احتجاج کے دوران زخمیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ

image


پیرس: (ویب ڈیسک) فرانس میں ہائی اسکول طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا ذرائع کے مطابق مظاہروں میں لاکھوں طلبہ کے ساتھ اساتذہ اور والدین بھی شریک ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم سباستیان لیکورنو نے موجودہ صورتحال کو کئی دہائیوں میں طلبہ کے احتجاج کا سب سے بڑا اور پُرتشدد دن قرار دیا ہے۔ 

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین نے شرکاء کی تعداد ساڑھے چار لاکھ بتائی ہے۔ پیرس، اسٹراسبرگ، رین اور تولوز سمیت مختلف شہروں میں پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔ 

فرانسیسی وزیر اعظم کے مطابق جھڑپوں میں اب تک کم از کم 215 نو عمر طلبہ اور 85 اسکول ملازمین زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 700 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو 488 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ سیکیورٹی اداروں کے 48 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو بنیادی سہولیات اور دیکھ بھال کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن میں پانی رسنا اور چوہوں کی بھرمار بھی شامل ہے۔ 

انسانی حقوق کی تنظیموں، طلبہ اور والدین کے گروہوں نے حکومت پر نابالغ طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے برعکس حکومت کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر احتجاج کو باہر سے آنے والے عناصر نے پُرتشدد بنا دیا ہے۔ وزارت انصاف کے مطابق مختلف جرائم میں 1800 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں جن میں 1483 نابالغ بھی شامل ہیں۔