بھارت میں ووٹر لسٹوں سے کروڑوں نام غائب

image


نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت میں خصوصی نظر ثانی کے نام پر 30 ریاستوں کی ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام پرسرار طور پر غائب کر دیے گئے ہیں۔ اس مبینہ ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے خلاف ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور انہوں نے شدید احجاج درج کرایا ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس کے تشدد، لاٹھی چارج اور متعدد گرفتاریوں کے باوجود مظاہرین کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکا ہے۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی، راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے نے اس تحریک کی عملی قیادت سنبھالتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اندر سے بھی شدید بغاوت سامنے آئی ہے جہاں دو الیکشن کمشنرز نے اپنے چیف کے فیصلوں کو علانیہ غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ مزید برآں الیکشن کمیشن کے افسران نے سافٹ ویئر میں کی جانے والی غیر قانونی چھیڑ چھاڑ کے اہم ثبوت براہ راست کابینہ سیکریٹری کو ارسال کر دیے ہیں۔

اس مبینہ ہیر پھیر کے تحت دہلی میں 32 فیصد جبکہ مہاراشٹرا میں 21 فیصد ووٹرز کے نام ووٹر لسٹوں سے یکسر حذف کر دیئے گئے ہیں۔ ووٹر رجسٹریشن فارمز میں اس انداز کی غیر قانونی تبدیلیوں پر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ملک کے جمہوری نظام کی شفافیت پر گہرے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور حکومت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔