دوا لیتے وقت پانی کی مقدار اور طریقہ نہایت اہم ہوتا ہے

image


اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ماہرین کے مطابق گولی یا کیپسول کو صرف ایک دو گھونٹ پانی کے ساتھ نگلنے کے بجائے تقریباً 200 سے 250 ملی لیٹر سادہ پانی کے ساتھ لینا بہتر ہے۔ مناسب مقدار میں پانی دوا کو غذائی نالی سے معدے تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور دوا کے راستے میں پھنسنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

دوا لینے کے فوراً بعد لیٹنے سے بھی گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے دوا غذائی نالی میں زیادہ دیر رکنے اور جلن یا تیزابیت کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دوا لینے کے بعد کم از کم 30 منٹ تک لیٹنے سے گریز کرنا بہتر ہے، تاہم مخصوص ادویات کی ہدایات کو ترجیح دینی چاہیے۔

چائے، کافی یا جوس کے ساتھ دوا لینے کے بجائے عام طور پر سادہ پانی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے، کیونکہ بعض مشروبات مخصوص ادویات کے اثرات یا جذب کو متاثر کرسکتے ہیں۔ دل یا گردوں کے مریض، جنہیں پانی محدود کرنے کی ہدایت ہو، اپنی مرضی سے پانی کی مقدار نہ بڑھائیں اور ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں۔