سیاسی کشمکش کے بیچ پاکستان: راستہ کہاں سے نکلے گا؟
دی ویووز نیٹ ورک: پاکستان کی سیاست اس وقت محض حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سیاسی اختلاف، آئینی معاملات، صوبائی خودمختاری، امن و امان اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ موجودہ سیاسی منظرنامہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو جمہوری قوت بنائیں گے یا اسے ایک ایسے تصادم میں تبدیل کر دیں گے جس کا نقصان بالآخر ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑے گا۔
حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز اس امید کے ساتھ ہوا کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہوگا اور احتجاجی سیاست کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ لیکن طویل مذاکرات کے باوجود بنیادی اختلافات دور نہ ہو سکے اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کوئی نئی نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ میں اختلافات، احتجاج، مذاکرات اور پھر دوبارہ محاذ آرائی کا سلسلہ بارہا دیکھنے کو ملا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ہر بحران کو ایک نئے بحران کی بنیاد کیوں بناتے ہیں؟ کیا سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے یا ریاستی نظام کو مستحکم کرنا بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے.
جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ حکومت کا کام صرف اپنے حامیوں کو مطمئن کرنا نہیں بلکہ مخالف سیاسی قوتوں کو بھی سننا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار صرف حکومت کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ متبادل پالیسی اور سیاسی راستہ پیش کرنا بھی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر ایک دوسرے کو ریاست کا مخالف سمجھنے لگیں تو جمہوری اختلاف آہستہ آہستہ سیاسی دشمنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادارے دباؤ میں آتے ہیں، معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اور عام شہری سیاسی کشمکش کی قیمت ادا کرتا ہے۔
موجودہ بحران میں خیبر پختونخوا کی صورتحال خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اور صوبائی کردار کے حوالے سے اختلافات مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں شامل رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات میں صوبائی حکومت اور مقامی سیاسی و سماجی نمائندگی کو شامل کیا جانا چاہیے۔ یہاں ہمیں سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر ایک حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کسی ایک جماعت، صوبے یا حکومت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کے خلاف حکمت عملی بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی حکومت، مقامی آبادی اور سیاسی قیادت کا اعتماد شامل ہو۔
احتجاج ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات عوام کے سامنے رکھنے اور حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن احتجاج کا مقصد ریاستی نظام کو مفلوج کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری بھی صرف احتجاج روکنا نہیں بلکہ اس کے سیاسی اسباب کو سمجھنا ہے۔ طاقت کے ذریعے وقتی طور پر سڑکیں خالی تو کرائی جا سکتی ہیں، لیکن سیاسی اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حکومت احتجاج کرنے والوں کو دشمن نہ سمجھے اور احتجاج کرنے والے ریاستی اداروں کو اپنا مخالف نہ سمجھیں۔
آج پاکستان کی سیاسی قیادت کا اصل امتحان اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ سیاسی بحران کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ سیاست میں آج کا اختلاف کل کے سمجھوتے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ فریقین اپنی سیاسی انا کو قومی مفاد پر غالب نہ آنے دیں۔ پاکستان کو اس وقت ایسے سیاسی رویے کی ضرورت ہے جس میں حکومت بھی اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھے اور اپوزیشن بھی اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے آئینی حدود اور عوامی مفاد کو مقدم رکھے۔
سیاسی عدم استحکام کا اثر صرف جماعتوں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوتا ہے اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی قیمت کسی سیاسی رہنما کو نہیں بلکہ عام شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ حالیہ سیاسی کشیدگی کے دوران نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے پر بھی نمایاں اثرات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی بحران کس طرح روزمرہ معاشی سرگرمیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کی سیاسی جدوجہد کا آخری مقصد کیا ہے: اقتدار، احتجاج اور محاذ آرائی، یا ایک ایسا نظام جس میں عوام کو سیاسی استحکام، روزگار، امن اور انصاف میسر ہو۔
پاکستان میں ایک اور اہم سوال اداروں کے کردار کا ہے۔جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب آئینی ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں اور سیاسی تنازعات کا بنیادی حل سیاسی فورمز اور عدالتوں کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ پارلیمنٹ کو سیاسی مکالمے کا مرکز بنانا ہوگا۔ عدالتوں کو آئینی معاملات کے فیصلے کرنے ہوں گے۔ حکومت کو انتظامی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی اور اپوزیشن کو پارلیمانی و آئینی راستوں کو مؤثر بنانا ہوگا۔ اگر ہر سیاسی تنازع کا حل سڑک پر تلاش کیا جائے گا تو پارلیمنٹ کی اہمیت کم ہوگی اور سیاسی نظام مسلسل غیر یقینی کا شکار رہے گا۔
شاید آج سب سے اہم ضرورت کسی ایک جماعت کے حق یا مخالفت میں کھڑے ہونے کی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ہے۔ ایسا اتفاقِ رائے جس میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، صوبائی حقوق، آزاد اور مؤثر عدالتی نظام، شفاف انتخابات، قانون کی حکمرانی اور پرامن انتقالِ اقتدار کو بنیادی اصول تسلیم کیا جائے۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔ آج جو حکومت میں ہے وہ کل اپوزیشن میں ہو سکتا ہے، اور آج جو اپوزیشن میں ہے وہ کل حکومت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو سمجھنا جمہوری سیاست کی پہلی شرط ہے۔
پاکستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل محاذ آرائی، احتجاج، سیاسی انتقام اور عدم اعتماد کی طرف جاتا ہے؛ دوسرا راستہ مذاکرات، آئین، پارلیمان، برداشت اور سیاسی مفاہمت کی طرف۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو سیاسی کشمکش کی وہی داستان دینی ہے جو ہم کئی دہائیوں سے پڑھتے آ رہے ہیں، یا ایک ایسا سیاسی کل تعمیر کرنا ہے جہاں حکومت بدلے تو نظام نہ بدلے، سیاسی جماعت بدلے تو آئین نہ بدلے اور اختلاف ہو تو ریاست کمزور نہ ہو۔ ریاستیں سیاسی اختلاف سے کمزور نہیں ہوتیں، لیکن سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے سے ضرور کمزور ہوتی ہیں۔ آج پاکستان کو کسی ایک سیاسی جماعت کی فتح سے زیادہ جمہوریت کی کامیابی کی ضرورت ہے۔ اور جمہوریت کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اختلاف باقی رہے، مگر مکالمہ ختم نہ ہو؛ حکومت بدلے، مگر نظام قائم رہے؛ سیاسی مفادات مختلف ہوں، مگر پاکستان سب کا مشترکہ مفاد رہے۔