ناوی پلے کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین

image


اوسلو: (ویب ڈیسک) نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے کو جنگی جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے اداروں کو مضبوط بنانے میں ان کے تاریخی کردار پر اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ کمیٹی نے ان کی خودمختار سوچ، قانونی مہارت اور اصولی مؤقف کو سراہا ہے۔ ان کی خدمات کو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

ناوی پلے 1941ء میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک بھارتی تامل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں، جہاں اس وقت نسلی امتیاز کا نظام رائج تھا۔ انہوں نے وکالت کے ذریعے نسلی امتیاز اور سماجی محرومی کے خلاف طویل قانونی جدوجہد کی۔ اپنے ابتدائی کیریئر میں انہوں نے نیلسن منڈیلا سمیت نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے والے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کا دفاع بھی کیا۔

اپنے طویل پیشہ ورانہ کیریئر میں ناوی پلے نے جنوبی افریقہ کی ہائیکورٹ، روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ 2008ء سے 2014ء تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کی اور میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف میں جج کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔