ترکیہ نے حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار کر دیا

image


انقرہ: (ویب ڈیسک) ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے باوجود وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک میں اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے انقرہ میں ہنگری کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ معاہدہ دفاعی مقاصد کے لیے ہے، جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق کسی رکن ملک پر مسلح حملے کی صورت میں دیگر رکن ممالک اس کے دفاع میں تعاون کریں گے۔

حاقان فیدان نے بتایا کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے فوجی حکام دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی دفاع، برقی جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ترکیہ سعودی عرب کو فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس، نگرانی اور ڈرون آپریشنز سمیت مختلف دفاعی شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے کی ترکیہ کی پارلیمنٹ سے توثیق ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنے دفاع کو مضبوط بنانے اور علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔