فلسطینی قصبے طیبہ میں زیتون کی فصل اتارنے والے کسانوں پر حملہ، سفارت کار بھی نشانہ بن گئے

image


یروشلم: (ویب ڈیسک) فلسطینی قصبے طیبہ میں ہفتے کے روز زیتون کی فصل اتارنے کے دوران فلسطینی کسانوں پر حملے کا واقعہ پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق یہودی آبادکاروں نے ایک بزرگ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جس کے سر پر چھ ٹانکے لگائے گئے۔ اس موقع پر فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے سفارت کار بھی زیتون کی کٹائی کی سرگرمی میں شریک تھے۔

اس سرگرمی میں فرانس کے شہر اولوئے ایریمری کے میئر برنارڈ بودوکس، فرانسیسی قونصل جنرل اور ان کی اہلیہ، بیلجیئم اور پولینڈ کے قونصلز سمیت دیگر سفارت کار موجود تھے۔ فرانسیسی میئر جب سفارتی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے تو ایک نقاب پوش حملہ آور نے انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ واقعے کے دوران سفارت کاروں کی موجودگی میں یہ حملہ پیش آیا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق حملہ آور نے فرانسیسی میئر کو دھکا دیتے وقت فرانس زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔ یہ واقعہ زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران پیش آیا، جب فلسطینی کسان اپنی فصل اتار رہے تھے۔ حملے میں زخمی ہونے والے شخص کو سر پر چھ ٹانکے لگائے گئے۔