چائے پینے کا انداز دل کی صحت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

image


کیلیفورنیا: (ویب ڈیسک) نئی تحقیق کے مطابق چائے پینے کی عادت اور اسے تیار کرنے کے طریقے کا دل اور خون کی شریانوں کی صحت سے تعلق ہو سکتا ہے۔ چین کے 4 لاکھ 85 ہزار سے زائد بالغ افراد پر کی گئی تحقیق میں تقریباً نو سال کے دوران دل کے دورے، فالج اور دیگر شریانی بیماریوں کے 14 ہزار 800 سے زیادہ واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق ہفتے میں کم از کم تین دن چائے پینے والوں میں خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم دیکھا گیا، جبکہ چائے کی شدت اور درجۂ حرارت بھی ممکنہ طور پر اہم عوامل قرار پائے۔

ماہرِ صحت ڈاکٹر لیانا وین کے مطابق چائے میں موجود پولی فینولز اور فلیوونائڈز ایسے قدرتی مرکبات ہیں جو جسم میں سوزش اور تکسیدی دباؤ کم کرنے اور خون کی شریانوں کے افعال بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تحقیق میں کالی چائے پینے والوں میں قلبی امراض کا نسبتاً کم خطرہ دیکھا گیا، تاہم سبز چائے بھی صحت بخش غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ محققین نے روزانہ چھ سے آٹھ پیالی چائے پینے والوں میں نسبتاً کم خطرہ مشاہدہ کیا، لیکن اسے ہر شخص کیلئے تجویز کردہ مقدار نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ نتائج شرکا کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھے۔

ماہرین کے مطابق چائے کو انتہائی گرم حالت میں پینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ بار بار بہت گرم مشروبات کا استعمال غذائی نالی کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ بغیر شکر کی چائے کا انتخاب اضافی شکر کی مقدار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ کیفین کے زیادہ استعمال سے نیند کی خرابی، بے چینی اور دل کی دھڑکن تیز ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دل کی صحت برقرار رکھنے کیلئے چائے کے ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی سے اجتناب اور بلڈ پریشر و کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔