کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر پابندی اور کرتارپور راہداری کی بندش کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مئی 2025ء سے بھارتی سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد متاثر ہے۔ اس صورتِحال میں دونوں ممالک کے درمیان مذہبی روابط کی بحالی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے پاکستان میں منعقد ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ بھارتی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب مودی حکومت انہیں فرانس اور جاپان جانے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت کیسے دے گی؟ رپورٹ کے مطابق بھارتی اسمبلی کے اسپیکر اور ارکان نے بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بھگونت مان نے اسمبلی کے ارکان کے ہمراہ کرتارپور اور ننکانہ صاحب میں حاضری کیلئے کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ اس سے قبل راہداری بند ہونے کے باوجود بھارتی سکھ یاتریوں کے استقبال کیلئے آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔ راہداری کی بحالی سے سکھ یاتریوں کیلئے اپنے مقدس مذہبی مقامات تک رسائی کا راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے۔