سربیا میں طلبہ تحریک کی بڑی کامیابی، ووچیچ کے سیاسی اتحاد کو شکست
بلغراد: (ویب ڈیسک) سربیا کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد سابق صدر الیگزینڈر ووچیچ کے سیاسی اتحاد نے طلبہ اتحاد کے سامنے شکست تسلیم کر لی۔ روئٹرز کے مطابق ووچیچ 2014ء سے بطور وزیراعظم یا صدر ملک کی سیاست پر غالب رہے، تاہم طلبہ اتحاد کی کامیابی نے ان کی طویل سیاسی بالادستی کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
طلبہ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے تقریباً دو سال سے جاری تھے، جن میں مبینہ بدعنوانی اور آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی تھی۔ ان مظاہروں کا آغاز 2024ء میں نووی ساد شہر کے ریلوے اسٹیشن کی چھت کا ایک حصہ گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ انتخابی کامیابی کے اعلان کے بعد دارالحکومت بلغراد میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں جشن منایا گیا اور طلبہ نے فتح کے نعرے لگائے۔
ووچیچ کے مطابق ابتدائی نتائج میں 250 نشستوں والی پارلیمان میں طلبہ کے انتخابی اتحاد کو 135 سے 140 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ان کی سربین پروگریسو پارٹی کو تقریباً 105 نشستیں مل سکتی ہیں۔ تقریباً 60 لاکھ آبادی والے سربیا میں اس پیش رفت کو ایک اہم سیاسی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات یورپ کی دیگر طلبہ تحریکوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔