سردیوں میں بار بار نزلہ، زکام اور فلو ہونے کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

image


اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش اور بخار جیسی شکایات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ بعض افراد ایک بیماری سے صحت یاب ہونے کے چند دن بعد دوبارہ زکام یا کھانسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ صرف سرد موسم یا کمزور قوت مدافعت نہیں بلکہ روزمرہ معمولات اور ماحولیاتی عوامل بھی ہیں۔ سردیوں میں لوگ زیادہ وقت گھروں اور دفاتر کے بند کمروں میں گزارتے ہیں، جہاں تازہ ہوا کی آمدورفت کم ہونے سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سرد اور خشک ہوا ناک، گلے اور سانس کی نالی میں موجود قدرتی حفاظتی تہہ کو متاثر کرسکتی ہے، جس سے وائرسز کے جسم میں داخل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فلو، آر ایس وی (RSV) اور عام نزلہ زکام کا باعث بننے والے مختلف وائرس سردیوں میں زیادہ پھیل سکتے ہیں۔ ایک وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد دوسرے وائرس کے خلاف لازمی طور پر تحفظ حاصل نہیں ہوتا، اسی لیے بعض افراد بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں۔ موبائل فون، دروازوں کے ہینڈل اور دیگر مشترکہ استعمال کی اشیا کو چھونے کے بعد گندے ہاتھوں سے آنکھ، ناک یا منہ چھونا بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

بیماریوں سے بچاؤ کے لیے روزانہ کچھ وقت کمروں میں تازہ ہوا کی آمدورفت یقینی بنانا، کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونا اور زیادہ رش والی بند جگہوں پر ماسک استعمال کرنا مفید ہے۔ اس کے ساتھ مناسب نیند، متوازن غذا اور پانی کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔ فلو کی ویکسین موسمی انفلوئنزا کے شدید انفیکشن اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم کرسکتی ہے، تاہم یہ تمام اقسام کے نزلہ زکام سے تحفظ نہیں دیتی۔ اگر تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد یا کئی ہفتوں تک کھانسی برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔