سرگودھا کے علاقے میں موجود پہاڑیوں کو کیرانہ کی پہاڑیاں کہا جاتا ہے

image

کرانہ کی تاریخ اپنے اندر بے شمار حقائق چھپائے بیٹھی ہے، ماہر ارضیات آر جی ڈیوس کے مطابق ان پہاڑیوں کی تاریخ ستاسی کروڑ سال پرانی ہے۔ 

سرگودھا: سرگودھا کے علاقے میں موجود پہاڑیوں کو کیرانہ کی پہاڑیاں کہا جاتا ہے جو سرگودھا کے چک 11 جنوبی سے لے کر چنیوٹ تک تقریباً 50 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سلانوالی کی تاریخ، کوہ کرانہ کی تاریخ کے بغیر ناممکن ہے۔ کرانہ کی تاریخ اپنے اندر بے شمار حقائق چھپائے بیٹھی ہے۔ سکندر اعظم کی سلطنت کے سپاہی ہوں یا سلطنت کششان کا سکہ ہو، ہندوؤں کی دوسری قدیم یونیورسٹی یا اورنگزیب کے سگے بھائی میاں حبیب ننگیانہ کا لنگر ہو ان سب کی جڑیں انہیں کرانہ کی پُر پیچ راہوں پر ملیں گیں۔ 

کرانہ پہاڑی کی تاریخ کو آپ دو منفرد حوالوں سے جانچ سکتے ہیں۔ ماہر ارضیات آر جی ڈیوس کے مطابق ان پہاڑیوں کی تاریخ ستاسی کروڑ سال پرانی ہے اور اس کا دور پری کیمبرج دور کا زمانہ ہے۔ دوسرا حوالہ ہندوؤں کی مذہبی کتب اور کہانیوں میں ملتا ہے جن میں دوسرا رامائن اور مہا بھارت وغیرہ شامل ہیں، جن کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ سرگودھا کی مقامی زبان میں صدیوں پرانے استعمال ہونے والا محاورہ "نک وڈھی" یعنی ناک کٹی اور بدمعاش عورت کے لیے یا بدچلن کے لیے"پناکھ" یا "بناکھ" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ہندوؤں کی روایت کے مطابق یہ سب بھی کرانہ کی تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ اس وقت سے رائج ہے جب "رام" نے "پرشر پناکھ" جوکہ سری لنکا کے بدمعاش "راون" کی بہن تھیں اور رام کی محبت یعنی "سیتا" کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی کا ناک کاٹی۔ وہاں سے اس علاقے میں "پرشر پناکھ" کا آدھا نام پناکھ بدمعاش عورت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ 

اس کے بعد رام اور راون میں جنگ چھڑی۔ رام کا شاگرد "ہنومان"  تھا۔ وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اپنا جسم بڑا کر لیتا تھا۔ اس وقت ان کو رام نے حکم دیا کہ وہ پتھروں کا پل بنائے تاکہ رام سیتا کو بچانے کے لیے راون تک پہنچ سکے۔ اس وقت ہنومان ہمالیہ سے بڑے بڑے پتھر اٹھا کر لاتا اور ان میں سے چند پتھر گرے۔ ہندواریوں کے مطابق کرانہ پہاڑی وہی پہاڑی ہے جو ہنومان کے ہاتھوں گری۔ اگر لفظ کرانہ پر غور کریں تو ضلع سرگودھا کے نزدیکی علاقوں اور سرگودھا میں پنجابی کا لفظ کرنا گرنے کی صورت استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کرے کے مالٹے، خود سے گرتے ہوئے آم کو کیری اور جلتی لکڑی سے الگ ہو کر گرنے والی راکھ کو بھی کیری کہتے ہیں، تو اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت ہندوؤں نے اس پہاڑی کا نام کرانا کیوں رکھا تھا۔ 

2011ء میں سونیا ملک نے دعویٰ کیا کہ ان پہاڑیوں سے سونے کا ایک سکہ ملا ہے جو کشان سلطنت کے دور کا ہے۔ سکے پر ایک دیوی کی تصویر ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق یہ سکہ لاہور اور ٹیکسلا میں رکھے عجائب گھروں میں موجود سکوں جیسا ہے۔ مزید یہاں پہاڑوں پر گھوڑوں اور سواروں کی تصاویر بھی کھدی ملی ہیں۔ یہاں سے دیگر ملنے والے خاکے ہاتھیوں، شطرنج، بحری جہازوں اور پھولوں کے ہیں۔ 

اسی پہاڑی پر ایک مندر بھی تھا جس میں رام، ہنومان اور سیتا وغیرہ کی تصاویر اور نیلے پھول کنندہ تھے۔ پہاڑی کے دامن سے مندر تک سیڑھیاں موجود تھیں اور ایئر فورس کے قبضہ سے قبل یہاں ہر سال میلہ لگتا تھا جو کہ اب پہاڑی کے دامن میں لگتا ہے اور بھیرے کے میلے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دھریمہ کے چک شمالی 66 میں اورنگزیب کے بھائی شاہجہان کی قبر بھی موجود ہے۔ 

پروفیسر ناریش کوچھر کے مطابق بھارت میں کوہ میلانی، کوہ ارولی اور پاکستان میں کوہ کیرانہ کی ساخت ایک جیسی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تحصیل سلانوالی کے اس حسن کو، ہنومان کی یادگار کو، سکندر اعظم کی چٹانی نقوش کو، جوگیوں کی خانقاہوں کو یہاں لگی کریشرز کے باعث بارود کی گرد سے ہمیشہ کے لیے معدوم ہونے سے بچائیں۔