موت آتی ہے پر نہیں آتی

image

دی ویووز نیٹ ورک: کالم کے عنوان سے منسوب مرزا اسداللہ خان غالب کی غزل کا یہ مصرعہ آج ہماری حالت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ یہ قوم پہلے ہی غربت، لاقانونیت، بے راہروی اور مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی کہ ہمارے مہربان حکمرانوں نے نئے تجربات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پہلے سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوا تو اب اس سے نمٹنے کیلئے اس غریب عوام کو ہی مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان ہر طبقے کو متاثر کر رہا ہے، ماسوائے اشرافیہ کے، کیونکہ ان کے تو مال و زر آگ لگانے سے بھی ختم نہ ہو ں۔ نگران حکومت آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے لئے صرف غریب عوام کے حقوق پر کٹ لگا رہی ہے جو کہ درحقیقت عوام کے دل و جگر پر کٹ لگانے کے مترادف ہے۔ ایک فلاحی ریاست ہمیشہ اپنے عوام کی خوشحالی اور ترقی کا سامان کرتی ہے جبکہ ہماری اشرافیہ ہمیشہ اپنے عوام کو بدحالی میں رکھنا پسند کرتی ہے۔ ہماری عوام اس وقت یہی آہ و بکا کر رہی ہے کہ 

داغِ دل گر نظر نہیں آتا 

بُو بھی اے چارہ گر نہیں آتی 

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی 

موت آتی ہے پر نہیں آتی

نگران حکومت جس کا کام صرف اگلی منتخب حکومت کے قیام تک معاملات کی نگرانی کرنا ہے نہ کہ پالیسیاں تشکیل دینا، اب وہ بھی ہمارے لئے پالیسی بنا رہی ہے۔ اب جب کہ جس حکومت کے پاس کوئی عوامی مینڈیٹ ہی نہیں، جنہیں خود پتہ نہیں کہ وہ کتنے دن مزید اس کرسی پر براجمان ہیں، وہ بھلا کیا عوام کے دکھ درد کا مداوا کریں گے۔ پہلے اعلان کیا جاتا ہے کہ اخراجات کو کم کرنے کیلئے سرکاری ملازمین کی پینشن کو ختم کیا جائے گا، جب پریشر بڑھا تو فیصلہ واپس لے لیا مگر اندرونِ خانہ اس پر کام جاری ہے۔ اب اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ پالیسی پنجاب کے سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس پالیسی پر فی الحال عوام تو ہمیشہ کی طرح بھنگ پی کر سو رہی ہے مگر اساتذہ جاگ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اساتذہ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، اگر منتخب حکومت موجود ہو تو انکے مسائل کسی نہ کسی حد تک احتجاج کے باعث حل کر دیے جاتے ہیں لیکن اگر منتخب حکومت نہ ہو تو ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ پچھلے 3 روز سے لاہور سول سیکرٹریٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، ان کے 5 مطالبات ہیں۔ پہلا مطالبہ ہے کہ لیو انکیسمنٹ کو بند نہ کیا جائے، دوسرا پینشنز کا سلسلہ بھی نہ روکا جائے، تیسرا شہروں میں گورنمنٹ اسکولوں کی پرائیوٹائزیشن نہ کی جائے، چوتھا مطالبہ ہے کہ ایس ایس ٹی ٹیچرز کو مستقل کیا جائے جبکہ 5واں مطالبہ یہ ہے کہ پروٹیکشن ایڈجسمنٹ کی جائے۔ اساتذہ اپنے مطالبات جو کہ درحقیقت عوامی مفاد میں ہیں، ان کو منوانے کیلئے سراپا احتجاج ہوئے تو حکومت نے اپنی طاقت دکھاتے ہوئے ان کو پابندِ سلاسل کردیا۔ دوسری جانب ٹیچرز نے پنجاب کے 10 ہزار سرکاری اسکولوں کو تالے لگا دیے ہیں۔ اس سارے معاملے میں نقصان کس کو پہنچ رہا ہے۔ اگر حکومت اور ٹیچرز کے درمیان معاملات طے پا گئے تو ان کی تنخواہیں ان کو مل جائیں گی اور اگر خدانخواستہ نہ طے پائے تو وہ اپنے لئے کسی اچھی ملازمت کا اہتمام کر سکتے ہیں مگر غریب کے بچے کدھر جائیں گے۔ اسکول بند ہونے سے جو بچوں کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے وہ کیسے پورا کیا جائے گا۔

بالفرض اگر گورنمنٹ اسکولز بند کر دیے گئے تو ان غریب بچوں کے مستقبل کا کیا بنے گا جو ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آج کے دور میں والدین کیلئے سرکاری اسکولوں کے اخراجات برداشت کرنا بھی مشکل ہے تو پرائیویٹ سکولوں کا خرچ کیسے برداشت کر پائیں گے؟ بچوں کی اسکول ِفیس 200 روپے سے بڑھ کر اگر 2000 روپے ہوگئی تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس عوام کے بچے اپنی تعلیم مکمل کرسکیں گے۔ کیا سوچی سمجھی سازش کے تحت پنجاب کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے یا اس کھیل کے اندر کوئی اور کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک کھیل ہے، دراصل میاں نواز شریف کی واپسی پر ان کو ہیرو بنانے کیلئے بساط بچھائی گئی ہے، جیسے ہی میاں نواز شریف وطن آئیں گے تو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی طرح اساتذہ کے ساتھ مل کر تحریک چلائیں گے اور ان کے مطالبات منوانے کے بعد ایک ہیرو کے طور پر سیاسی میدان میں قدم رکھیں گے۔

دوسری جانب نگراں پنجاب حکومت بھی کوئی واضح بیان نہیں دے رہی، چند روز قبل نگران صوبائی وزیرِ اطلاعات عامر میر کا کہنا تھا کہ کسی سرکاری اسکول کو کسی پرائیویٹ تعلیمی ادارے کے حوالے نہیں کیا، نگران وزیرِ اعلٰی اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ رات نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی ٹی وی اسکرین پر زیارت نصیب ہوئی، جناب سے جب صحافی نے اس متعلق سوال کیا تو مسکراہٹ کے پھول نچھاور کرتے ہوئے کہا کہ اس پر بات نہیں کر سکتا۔ کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اگر ملک کی کل آبادی کے نصف سے زائد والے صوبے کے حاکم کو بھی نہیں معلوم کہ کیا ہونے جا رہا ہے تو ہم کس سے پتہ کریں؟ اگر وہ بھی اس انتظار میں ہیں کہ میاں صاحب آئیں اور اس نیک شگون سے اپنی سیاسی جنگ کا آغاز کریں تو پھر وہ باقاعدہ مسلم لیگ ن کی ممبرشپ لیکر اپنی حیثیت واضح کریں۔ یوں بچوں کو تعلیم کے زیور سے محروم کرکے یا ان کا مستقبلِ داؤ پر لگا کر یہ بازی نہ کھیلیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ جو کہ چھوٹی سی چھوٹی بات کا خیال کئے ہوئے ہے کہ کس کو لانا ہے اور کس کو نکالنا ہے، وہ بھی اس اہم معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہے، خدارا! ہم عوام کی حالتِ زار پر کچھ رحم فرمایا جائے تاکہ کل آپ کو بھی رحم کی امید رکھ سکیں۔