صنعتکاروں نے دسمبر میں برآمدی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کردیا

image

گیس ٹیرف میں 130 فیصد اضافہ، صنعتکاروں نے اضافے کو مسترد کردیا، اور برآمدی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کردیا۔ 

کراچی: (اکنامکس ڈیسک) صنعت کاروں نے گیس ٹیرف میں 130 فیصد اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی برآمدی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے صنعت کاروں نے گیس ٹیرف میں 130 فیصد اضافے کو مسترد کرتے ہوئے دسمبر کے پہلے ہفتے سے مرحلہ وار بنیادوں پر اپنی برآمدی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ اعلان منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں شہر کی ساتوں صنعتی علاقوں کے صدور، ٹاؤلز مینوفیکچررز اور ریڈی میڈ گارمینٹس کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار شیخ نے کہا کہ گیس نرخ پر صنعتی شعبے کے شدید تحفظات ہیں، گیس قیمت کے معاملے پر ہونے والی زیادتی کو ہر سطح پر اٹھایا ہے، چھوٹی بڑی صنعتیں چلانے میں شدید مشکلات ہیں،چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں کی بڑی تعداد بند ہوچکی ہیں لیکن اب بڑی نوعیت کی صنعتیں بھی بندش کی راہ پر گامزن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اوگرا کی تجویز کردہ 1350 روپے فی ایم بی ٹی یو نافذ کیا جائے لیکن سرکلر ڈیٹ صنعتی شعبے پر عائد نہ کیا جائے۔

 افتخار احمد شیخ نے کہا کہ اعلی حکومتی حلقوں میں کوئی شنوائی نہیں ہورہی اس لیے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا موقف حکام بالا تک پہنچا رہے ہیں۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے سربراہ جاوید بلوانی نے کہاکہ دسمبر کے پہلے ہفتے سے مرحلہ وار برآمدی سرگرمیاں روک دی جائیں گی، پہلے مرحلے میں ایک دن کے لیے بطور احتجاج برآمدی سرگرمیاں بند ہوں گی، بعد ازاں برآمدی سرگرمیوں کی بندش کے ایام میں اضافہ کیا جائے گا۔