اے آئی تحریروں میں خفیہ واٹر مارک لگانے کا فیصلہ

image


 کیلیفورنیا:(ٹیکنالوجی ڈیسک) آج کے دور میں اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ پتہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ کوئی تحریر اے آئی نے لکھی ہے یا انسان نے لکھی ہے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کیلئے اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس سے لکھی جانے والی تحریروں میں ایک خفیہ نشان یعنی واٹر مارک لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اس نظام کا نام "ٹیکسٹ گرین" رکھا گیا ہے۔ یہ واٹر مارک عام آنکھ سے نظر نہیں آئے گا لیکن ایک خاص ٹول سے پتہ چل جائے گا کہ یہ تحریر اے آئی نے لکھی ہے۔ یہ نشان تحریر کو کاپی پیسٹ کرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا۔

کمپنی نے یہ نظام سب سے پہلے یورپی یونین میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یورپی یونین کا نیا قانون ہے جس کے تحت اے آئی کمپنیوں کیلئے لازم ہے کہ وہ بتائیں کہ کون سا مواد اے آئی نے بنایا ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس واٹر مارک سے تحریر کے معیار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی یہ کسی صارف کی ذاتی معلومات بتائے گا۔ 

خفیہ واٹر مارک صرف اتنا بتائے گا کہ تحریر اے آئی کی مدد سے لکھی گئی ہے۔ تاہم یہ نظام سو فیصد درست نہیں ہے۔ اگر تحریر بہت چھوٹی ہو، اس میں تبدیلیاں کی جائیں، یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے تو واٹر مارک کمزور یا ختم ہو سکتا ہے، اس لیے واٹر مارک نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تحریر لازمی انسان نے لکھی ہے۔