مفتی محمود مرکز کی زمین اور تعمیرات پر سوالات

image


پشاور: (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رنگ روڈ پر واقع مفتی محمود مرکز سے متعلق اہم دستاویزات سامنے آئی ہیں، جن سے زمین کی خریداری، تعمیراتی اخراجات اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق مرکز کے تقریباً 79 کنال رقبے کی زمین 2003 میں خریدی گئی تھی۔

ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا کہ مرکز کی تعمیر کے لیے مولانا فضل الرحمان نے لیبیا سے فراڈ کے نام پر رقم حاصل کی، جبکہ ان کے دعوے کے مطابق زمین کی خریداری میں لیبیا کی رقم استعمال ہوئی اور ملکیت مولانا فضل الرحمان کے نام پر ظاہر ہو رہی ہے۔ یہ الزامات صوبائی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران عائد کیے ہیں۔

صوبائی وزیر کے مطابق مرکز کی بیرونی حدود پر قائم لائٹ میٹل فریم کا حصار پشاور رنگ روڈ کے 52 فٹ سیٹ بیک ایریا میں واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری رائٹ آف وے کی زمین پر تعمیر کیا گیا یہ حصار تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے اور عوامی گزرگاہ کی حدود متاثر کر رہا ہے۔