ہوا سے کاربن خارج کرنے والا اسپنج تیار
چارجنگ کے بعد چارکول ’اسپنج‘ ہوا سے براہِ راست کاربن ڈآئی آکسائیڈ کشید کرنے کے قابل، اس مواد کا انتخاب اس کے سستے، مستحکم اور وافر مقدار میں بنائے جانے کی وجہ سے کیا، ایک فعال چارکول کپڑا استعمال کیا اور اس کو ہائیڈروکسائیڈ آئنز سے چارج کیا۔
کیمبرج: (ٹیکنالوجی ڈیسک) ہوا سے کاربن کشید کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا گیا ہے۔ اسپنج چارکول کو چارج کرنے کے بعد بالکل بیٹری کی طرح آپریٹ ہوتا ہے۔ چارجنگ کے بعد چارکول ’اسپنج‘ ہوا سے براہِ راست کاربن ڈآئی آکسائیڈ کشید کرتا ہے۔ تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مواد کا انتخاب اس کے سستے، مستحکم اور وافر مقدار میں بنائے جانے کی وجہ سے کیا۔ فعال چارکول عموماً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہوا سے کشید اور ذخیرہ نہیں کرتا۔ تحقیق میں محققین کو معلوم ہوا کہ جب اس کو بیٹری کی طرح چارج کیا گیا تو یہ اس امر کیلئے موافق مٹیریل بن گیا۔
سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ توانائی کے اعتبار سے کاربن کشید کرنے کے طریقوں میں ایک مؤثر متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ایلگزینڈر فورس کا کہنا تھا کہ ماحول سے کاربن اخراج کو کشید کرنا آخری حل ہے لیکن موسمیاتی ایمرجنسی کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ حل ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق ہمیں تحقیق کرنے کی ضرور ہے۔ تحقیق میں محققین نے ایک فعال چارکول کپڑا استعمال کیا اور اس کو ہائیڈروکسائیڈ آئنز سے چارج کیا۔ یہ آئنز چارکول کے باریک سراخوں میں جمع ہوگئے، جس کے بعد یہ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنے کے قابل ہوئے کیوں کہ انہوں نے ہائیڈروکسائیڈز کے ساتھ بونڈ بنائے تھے۔
دوسری جانب امریکن کمپنی نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ہی وقت میں ہوا اور سمندر کے پانی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کشید کرنے کے ساتھ ہائیڈروجن کے بطور متبادل ایندھن بناکر موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کیلئے بڑی بڑی ٹیکنالوجی اور آئل کمپنیاں دو حکمتِ عملیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ پہلی حکمت عملی ماحول اور سمندر سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کشید کرنا جب کہ دوسری ماحول دوست متبادل ایندھن کا بنایا جانا ہے۔ کیلیفورنیا کی مقامی ٹیکنالوجی کمپنی ایک ساتھ تینوں امور انجام دے رہی ہے۔ اس کمپنی کے لاس اینجلس اور سِنگا پور میں قائم دو پائلٹ پلانٹ کام کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹ سمندر سے پانی لیتے ہیں، پھر اس سے بجلی گزارتے ہیں۔ اس عمل سے پانی کے مالیکیول علیحدہ ہوجاتے ہیں اور ہائیڈروجن مالیکیول نکال کر کمپنی ایندھن کے طور پر فروخت کردیتی ہے۔