13 لاکھ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں جاسوس سافٹ ویئر ڈال دیا گیا

image


 کیلیفورنیا: (ٹیکنالوجی ڈیسک) گوگل نے انکشاف کیا ہے کہ ایک کمپنی نے 13 لاکھ سے زیادہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں خفیہ سافٹ ویئر چھپا کر صارفین کا ڈیٹا چوری کیا اور ان کا انٹرنیٹ سائبر جرائم کے لیے استعمال کیا۔ گوگل کے مطابق یہ کام چین کے شہر شین ژین کی کمپنی "ویڈیو اسٹرونگ ٹیکنالوجی" نے کیا۔ کمپنی نے ڈیوائسز بناتے وقت ہی ان میں یہ سافٹ ویئر ڈال دیا تھا۔ گوگل کا کہنا ہے یہ غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر پیسے کمانے کے لیے کیا گیا۔ 

یہ سافٹ ویئر جس کا نام "ایکس سی پی ای" بتایا گیا ہے، ڈیوائس کے پہلی بار آن ہوتے ہی پورے سسٹم پر قبضہ کر لیتا تھا۔ اس کے بعد وہ صارف کی اجازت کے بغیر ایپس انسٹال کرنا، کمانڈ چلانا، اسکرین کی تصویریں لینا اور اکاؤنٹس سمیت ساری معلومات چرانا شروع کر دیتا تھا۔ اس کے ذریعے ہیکرز ان ڈیوائسز کو دور بیٹھ کر کنٹرول کرتے تھے۔ متاثرہ ڈیوائسز کو ایک خفیہ نیٹ ورک (بوٹ نیٹ) کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ ہیکرز صارفین کے انٹرنیٹ سے اپنا غیر قانونی ٹریفک گزارتے اور اشتہارات میں فراڈ اور مزید وائرس انسٹال کرنے جیسے جرائم کرتے تھے۔ سب سے زیادہ متاثر اینڈرائیڈ ٹی وی باکس ہوئے، اس کے علاوہ کچھ میڈیکل ڈیوائسز، کراوکے مشینیں اور ڈیجیٹل بورڈز میں بھی یہ وائرس ملا۔ 

یہ نیٹ ورک 200 سے زائد ممالک تک پھیلا ہوا تھا، لیکن گوگل نے متاثرہ برانڈز کے نام نہیں بتائے۔گوگل نے اس چینی کمپنی پر اینڈرائیڈ ڈیوائسز بنانے اور بیچنے پر پابندی لگا دی ہے اور جاپان پولیس سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر اس نیٹ ورک کے سرورز بند کر دیے ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے مزید ایک کروڑ ڈیوائسز کو ہیک ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔ کمپنی نے اب اینڈرائیڈ ٹی وی کی جانچ پڑتال سخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ہمیشہ مشہور اور قابل اعتماد کمپنیوں کی ڈیوائسز ہی خریدیں۔